بھٹکل:4/فروری (ایس او نیوز) اگلے 2سالوں تک ریاستی محکمہ خزانہ نے کسی بھی نئے منصوبہ جات کو جاری نہ کرنے کا حکم دیا ہے، یہی سبب ہے کہ بھٹکل میں اندرونی نالیوں کا کام رُکا ہوا ہے، یہ بات ریاستی کابینہ کے وزیر برائے شہری ترقیات جناب روشن بیگ نے کہی۔ وہ یہاں سنیچر کو بھٹکل بلدیہ میں بلدیہ ممبران، اعلیٰ افسران اور مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کے عہدیداران کے ساتھ منعقدہ الگ الگ میٹنگوں میں خطاب کررہے تھے۔ وزیر موصوف نے کہاکہ بھٹکل میں اندرونی نالیوں کے زون -1کے لئے 232کروڑ روپیوں کی پیش کش حکومت کو سونپے جانے کی ہمیں اطلاع ملی ہے، 10کروڑ روپیوں سے زائد کسی بھی کام کےلئے ٹینڈر لازمی ہے اور کابینہ کی منظوری لینی ہوتی ہے، اس بنائ پر اس رقم کو منظور ہونے میں مزید تین چار ماہ لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے میونسپل کونسلروں اور تنظیم صدر پر زور دیا کہ وہ مقامی رکن اسمبلی کے ساتھ بنگلور پہنچ کر ریاستی وزیراعلیٰ سدرامیاسے ملاقات کریں۔ انہوں نے بھٹکل غوثیہ اسٹریٹ میں موجودپمپنگ اسٹیشن کو دوسری جگہ منتقل کرنے اور اندرونی نالیوں کے کام کو فوری طورپر مکمل کرنے اپنی جانب سے ہرممکن کوشش کرنے کا یقین دلایا۔
وزیر روشن بیگ کا غوثیہ محلہ دورہ
پمپنگ اسٹیشن میں موٹروں کی خرابی کا جائزہ لینے اور ڈرینیج پانی کو قریبی شرابی ندی میں چھوڑے جانے کی شکایت پر جناب روشن بیگ نے غوثیہ اسٹریٹ کا دورہ کیا اور کچرانکا سی مرکز اور صاف وشفاف شرابی ندی کے گھٹر کے نالے میں تبدیل ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مقامی عوام نے اپنی برہمی ظاہرکرتے ہوئے کچرانکاسی مرکز کی وجہ سے ان کی صحت پر پڑنے والے برے اثرات اور پینے کے پانی کے کنوئوں کو خراب ہونے پر آواز اُٹھائی۔ عوام کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ اس تعلق سے درخواستیں دی جاچکی ہیں، لیکن عوامی نمائندے ، لیڈران اورافسران علاقہ کا دورہ کرتے ہیں، مگر مسئلہ حل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ کثیر تعداد میں موجود کافی لوگوں نے اپنی سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے تنظیم انتظامیہ پر بھی بے حس اور بے کار ہونے کا الزام لگایا۔ ابتدا میں عوام کےشور وشرابہ کو دیکھ کر وزیر موصوف واپس جانے کے لئے بھی مُڑے، مگر پھر عوام کی پریشانیوں کا احساس کرتے ہوئے ندی میں اُتر کر پوری ندی میں جمع کالے پانی اور نالوں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر کچھ لوگوں نے تنظیم ذمہ داران پر زور دیا کہ وزیر صاحب کا دورہ صرف دورہ کی حد تک محدود نہ ہو، بلکہ علاقے کے مسئلے کا مستقل حل نکا لا جائے۔اس موقع پر کچھ لوگوں نے وزیرموصوف اور تنظیم وفد کے ساتھ مقامی رکن اسمبلی کی غیر موجودگی کے تعلق سے بھی آواز اُٹھائی۔
دوکانداروں اور بلدیہ مزدورں کی طرف سے وزیر کو اپیلیں
جناب روشن بیگ کی بھٹکل آمد کو دیکھتے ہوئے بھٹکل میونسپالٹی کی دکانوں کے کرایہ داروں نے گذشتہ سال اگست میں ہوئی نیلامی کے تعلق سے ہوئی افراتفری کے تعلق سے وزیرموصوف کا آگاہ کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سازش کے تحت ہمیں نکال باہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لہٰذا اس سلسلے میں ضروری اقدامات کئے جائیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ماہانہ 800 اور 1000 روپیہ کرایہ کی دکانیں نیلامی میں ماہانہ پچاس پچاس ہزار یہاں تک کہ ایک لاکھ کرایہ پر نیلام ہوئی ہیں۔ان لوگوں نے پرانے کرائے داروں کو پرانے کرائے پر ہی بلدیہ کی دکانیں واپس لوٹانے کا مطالبہ کیا اور میمورنڈم پیش کیا۔اسی طرح کئی سالوں سے کنٹراکٹ کی بنیاد پر بلدیہ میں مزدوری کررہے مزدوروں کو مستقل نوکری پر رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی میمورنڈم دیا گیا۔
اس سے قبل بھٹکل کا سماجی ادارہ مجلس اصلاح وتنظیم کے صدر جناب مزمل قاضیا نے وزیر موصوف کو مطالبات کی فہرست سونپتے ہوئے بتایا کہ غوثیہ اسٹریٹ میں واقع پمپنگ اسٹیشنکی وجہ سےپورا علاقہ گندگی سے بھر گیا ہے ، شرابی ندی میں غلیظ پانی جمع ہوجانے سے پانچ سو سے زائد کنویں خراب ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر تنظیم جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری، نائب صدر عنایت اللہ شاہ بندری، بلدیہ صدر محمد صادق مٹا، نائب صدر کے ایم اشفاق ، بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ایم این منجوناتھ ، تحصیلدار وی این باڈکر، شہری ترقیات کے انجنئیر آر پی نایک، بلدیہ چیف آفیسر وینکٹش وغیرہ موجود تھے۔